ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں /  اتر کنڑا حلقے میں کانگریسی امیدوار کی ہار کا سبب آپسی چپقلش اور گارنٹیوں پر حد سے زیادہ اعتماد

 اتر کنڑا حلقے میں کانگریسی امیدوار کی ہار کا سبب آپسی چپقلش اور گارنٹیوں پر حد سے زیادہ اعتماد

Thu, 06 Jun 2024 13:25:46    S.O. News Service

کاروار ، 6 / جون (ایس او نیوز) لوک سبھا انتخابات کے نتیجہ میں اتر کنڑا حلقے میں کانگریسی امیدوار ڈاکٹر انجلی نمبالکر کی شکست کا جائزہ لیں تو ایسے کئی پہلو سامنے آتے ہیں جنہیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر شکست کے اسباب مانا جا سکتا ہے ۔ 
    
سب اسے اہم پہلو یہ ہے کہ اتر کنڑا حلقے کو بی جے پی کا مضبوط قلعہ مانتے ہوئے یہاں پر کانگریس کا کوئی بڑا لیڈر بی جے پی کے مقابلے میں اترنے پر تیار نہیں تھا ۔ اس بیچ ایڈوکیٹ جے ٹی نائک نے اپنے آپ کو امیدواری کے لئے پیش کیا تو کانگریس کی جانب سے انہیں ٹکٹ دینے کے بجائے ضلع شمالی کینرا سے باہر مگر اتر کنڑا حلقے میں شامل خانہ پور اسمبلی حلقے میں شکست سے دوچار ہونے والی ڈاکٹر انجلی نمبالکر کو لایا گیا اور امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا ۔ اس سے بی جے پی کو کانگریسی امیدوار کے خلاف منفی پروپگنڈا کرنے کا پورا موقع مل گیا ۔ 
    
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ضلع میں کانگریسی لیڈرشپ نے الیکشن کے دوران یوں تو ظاہری طور پر ایکتا اور ہم آہنگی کا مظاہرا کیا لیکن ان کے اندر جو آپسی چپقلش اور ایک دوسرے کے خلاف جو بغض اس کی جھلکیاں بھی کسی سے پوشیدہ نہیں تھیں ۔ دوسری طرف کانگریس کی ریاستی لیڈرشپ کو حد سے زیادہ اعتماد تھا کہ مفت سہولتوں کی جو پانچ گارنٹیاں ریاستی حکومت نے جاری کی ہیں اس کا بھرپور فائدہ ہوگا اور  70% سے زیادہ خواتین کے ووٹ کانگریس کے جھولے میں آجائیں گے ۔ لیکن کانگریسی لیڈرشپ کا یہ بھرم پوری طرح ٹوٹ گیا ۔ 
    
خلاصہ کے طور پر درج ذیل نکات کانگریسی امیدوار ڈاکٹر انجلی کی ہار کے چند اہم اسباب بنے ہیں :
    
۱۔ ڈاکٹر انجلی نمبالکر کو ضلع شمالی کینرا سے باہر سے لائی گئی امیدوار کے طور پر پیش کرتے ہوئے   بی جے پی کی طرف سے کیا گیا کا میاب پروپگنڈا  
    
۲۔ اپنی پانچ گارنٹیوں پر حد سے زیادہ اعتماد اور اس کے بدلے میں خواتین کے ووٹوں کی اکثریت ڈاکٹر  انجلی کے کھاتے میں پڑنے کی توقع جو پوری نہیں ہو سکی  

۳۔ مراٹھا ، کشیتریہ مراٹھا، دلت، ہالکّی گوڈا، نامدھاری اور ماہی گیر طبقات میں سے اکثریت کا کانگریسی  امیدوار کے حق میں ووٹ نہ ڈالنا  

۴۔ بی جے پی کے مقابلے میں کانگریس پارٹی کی کمزور تشہیری مہم 
    
۵۔ یلاپور حلقے میں کانگریس پارٹی کو قابل ذکر حمایت نہ ملنا 
    
۶۔ کانگریسی لیڈروں کی آپسی چپقلش اور تنظیمی نظم و ضبط کا فقدان اور اس کے نتیجے میں ضلع کے ووٹروں پر کانگریسی لیڈرشپ کی کمزور گرفت

اس کے مقابلے میں اگر بی جے پی امیدوار وشویشورا ہیگڑے کاگیری کی شاندار جیت کا تجزیہ کریں تو جو چند نکات سامنے آتے ہیں وہ اس طرح ہیں :

۱۔ اتر کنڑا کے گھر گھر میں اندرونی طور پر مضبوط اور مستحکم جڑیں رکھنے والے ہندوتوا کا رنگ 

۲۔  ووٹروں کے ایک بڑے طبقے میں پایا جانے والا ہندوتوا کا ایجنڈا اور اسے پورا کرنے کے لئے کسی  بھی حالت میں نریندرا مودی کو تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنانے کا عزم

۳۔ اننت کمار کے مقابلے میں بی جے پی کی طرف سے وشویشورا کاگیری جیسے ایک متوازن شخصیت  کے مالک امیدوار کو میدان میں اتارنے کے بعد ان کی جیت کی راہ روکنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے  میں کانگریسی لیڈرشپ کی ناکامی 

۴۔ جن گارنٹیوں کے بل پر کانگریسی لیڈرشپ کو جیت کا یقین تھا، اسے توڑنے میں بی جے پی مہیلا مورچہ کی طرف سے کی گئی منظم اور کامیاب کوششیں 

۴۔ گزشتہ تین دہائیوں سے سیاست میں رہتے ہوئے ایک بااصول اور با کردار شخصیت کے طور پر بنی  ہوئی بی جے پی امیدوار وشویشورا کاگیری کی امیج

۵۔ گزشتہ اسمبلی الیکشن میں شکست کی وجہ سے کاگیری کو ملنے والا ہندوتوا وادیوں کی خصوصی  ہمدردی کا رجحان    


Share: